علاج سے محروم بلڈ کینسر میں مبتلا 8 سالہ فائق کاسائنسدان بننے کا خواب۔۔!!

پہلی جماعت کا طالبِ علم 8 برس کا فائق فرحان جس نے ابھی ٹھیک سے زندگی کے رنگ ہی نہیں دیکھے اس وقت موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہے, ڈاکٹروں نے اسے بلڈ کینسر کا مرض تشخیص کیا ہے ، لیکن اس کے والدین کے پاس اتنی رقم نہیں کہ وہ بچے کا مکمل علاج کرواسکیں ۔

فائق کا خواب ہے کہ وہ بڑے ہوکر  سائنسدان بنیں اور ایسی دوا بنائیں کہ پھر کوئی بچہ بلڈ کینسر یا کسی بھی قسم کے  کینسر میں مبتلا نہ ہوسکے، لیکن شاید فائق کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود اس موذی مرض میں مبتلا ہیں، اور علاج کروانے کے قابل بھی نہیں۔

ابتداء میں مختلف اسپتالوں  کے چکر کاٹنےاور مہنگے ٹیسٹ کروانے میں اپنی جمع پونجی لٹانے والے فائق کے والدین اب اپنے لخت جگر کو اسپتال سے گھر  واپس لے آئے ہیں کیونکہ اسپتال والے کہتے ہیں  کہ علاج پر کم ازکم 50 لاکھ روپے کے اخراجات آئیں گے، پہلے 30 لاکھ روپے جمع کروائیں پھر اسپتال میں داخلہ ملے گا۔

 فائق کے والدین کا کہنا ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ اتنا مہنگا علاج کیسے ممکن ہوگا، اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے، لوگوں سے مدد کی اپیل کی ہے کچھ مخیر حضرات نے رابطہ  بھی کیا ہے لیکن اب بھی مطلوبہ رقم سے بہت کم  جمع ہوئے ہیں۔

فائق نے حکومت اوردرد مند دل رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ اس کا علاج کروانے میں مدد کی جائے تاکہ وہ بڑا ہوکر سائنسدان بننے کا اپنا خواب پورا کرسکے۔کیونکہ اس کے والدین اتنی سکت نہیں رکھتے کہ  اسے بچانے کیلئے اتنی بڑی رقم کا بندوبست کرسکیں.

مخیر حضرات اور درد مند دل رکھنے والے افراد اس پوسٹ میں دی گئی تفصیلات پر براہِ راست رابطہ کرسکتے ہیں.

For Donation Please Contact Please donate generously to help his parents fight against cancer.

For Donation Please Contact: Mr Farhan F/O  Faiq

0311-2089283.…..0311-2089284

Ms Sheher Bano : 0333-2305622

نوٹ:  Voice N Vision TV  ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ان افراد کی آواز متعلقہ لوگوں اور ذمہ داران تک پہنچاتا ہے جن کی کوئی نہیں سنتا، ہمیں ایسے بے شمار پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں مسائل کا تذکرہ ہوتا ہے اور ادارے کی مکمل کوشش ہوتی ہے کہ ان مسائل کے حل کیلئے اپنی پوری توانائی اور اثر ورسوخ استعمال کیا جائے، تاہم ادارے کا کسی بھی سائل سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا، یہ فقط خوشنودی پروردگار کیلئے کیا جاتا ہے،  اس لیئے مدد کرنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ اپنے طور پر سائل کی معلومات لے کر اپنی حیثیت و بساط کے مطابق مدد کریں کیونکہ اس کا اجر صرف اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کے ذمے ہے کسی انسان کی اتنی اوقات نہیں کہ کارخیر کی جزا دے سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں