دعا زہرا کی بازیابی کیلئے والدین نے ایک بار پھر بڑا قدم اٹھا لیا – Hassan Nisar Urdu News Website

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کی بازیابی کے حوالے سے نئی درخواست فوری سماعت کے لیے منظور کر لی۔جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ آج ہی کیس کی سماعت کرے گا۔گزشتہ روزدعا زہرا کے والد مہدی کاظمی کی جانب سے دائر نئی درخواست میں موقف اپنایا گیا

کہ دعا زہرا کو ظہیر احمد نے اغوا کیا ہے،جب دعا زہرا کے اغوا کا واقعہ ہوا تو اس وقت دعا کی عمر 13 سال 11 ماہ اور 19 دن تھی۔ دعا زہرا کی عمر سے متعلق نادرا دستاویزات،تعلیمی اسناد، پاسپورٹ اور برتھ سرٹیفکیٹ موجود ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ ظہیر احمد نے میری کم عمر بیٹی کو پنجاب لے جا کر شادی کی۔ نکاح نامے پر دعا کی عمر 18 سال ظاہر کی گئی تاکہ نکاح کو جائز قرار دیا جائے۔ واضح رہے کہ پولیس نے 6 جون کو دعا زہرا کو سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیا تھا جس کے بعد عدالت نے دعا زہرا کی عمر کے تعین کا حکم دیا تھا۔پہلے میڈیکل بورڈ نے بون اوسیفکیشن کے بعد دعا کی عمر17سال کے قریب بتائی،جس پر عدالت نے دعا زہرا کو اپنی مرضی سے جانے کی اجازت دی تھی۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سال سےکم ثابت ہو چکی ہے،دعا زہرا کے ساتھ اگر ‘جنسی زیادتی ثابت ہوتی ہے تو ملزم ظہیر کے خلاف کارروائی کی جائے اور بیٹی کو بازیاب کروایا جائے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے دعا زہرا کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی ہے جس میں لڑکی کی عمر 15 سے 16سال کے قریب قرار دی گئی ہے۔ دعا زہرا کے والد کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ دعا زہرا کے بیانات غلط ثابت ہوئے اور یہ کیس اغوا کے ضمرے میں آتا ہے۔ جبکہ والد مہدی کاظمی کا کہنا ہے کہ پولیس ملزم کو گرفتار نہیں کررہی ہے اور پولیس ضد کررہی ہے کہ اغوا کا کیس نہیں ہے۔ ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ان میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں کیا دعا زہرا کی شادی باقی رہ سکتی ہے۔

Source link
hassannisar.pk

اپنا تبصرہ بھیجیں