پی ٹی آئی کیخلاف ریفرنس کا معاملہ!! حکومتی اتحاد میں پھوٹ، اہم ارکان نے تحفظات کا اظہار کر دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پی ڈی ایم اور حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلا میں 2 اراکین نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ریفرنس پر تحفظات کا اظہار کیا۔ پی ڈی ایم اور حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس کا احوال نجی ٹی وی نے معلوم کرلیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے

پر غور کے حوالے سے منعقدہ اس اجلاس میں 2 اراکین نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ریفرنس پر تحفظات کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق ریفرنس دائر کرنے سے اختلاف رائے کا اظہار کرنے والے اراکین کی رائے تھی کہ اگر اس ریفرنس پر پی ٹی آئی کیخلاف فیصلہ آیا تو سارے ارکان ڈی سیٹ ہو جائیں گے اور اگر 140 سے زائد ارکان ڈی سیٹ ہوئے تو ملک میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوگا۔ مذکورہ اراکین کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سے منحرف ایم این ایز بھی ڈی سیٹ ہوں گے۔ صوبائی اسمبلیوں سے بھی پی ٹی ارکان ڈی سیٹ ہوجائیں گے۔ ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں ضمنی انتخابات بھی مسئلہ ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں اکثریت نے مذکورہ اراکین کے تحفظات کو مسترد کردیا ان کی رائے تھی کہ ریفرنس بھیجنا ابھی ضروری ہے بعد میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پی ڈی ایم اور حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں عمران خان کو نااہل کرانے کے لیے ریفرنس بھی دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ریفرنس آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ دوسری جانب چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) نور عالم خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا جج رہنے والا شخص خواتین کو ہراساں کرتا ہے اور اگر کمیٹی میں طلب کیا جائے تو عدالت چلے جاتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے سے آئین اور قانون کی روشنی میں کچھ نکات سامنے رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ کچھ ادارے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، پی اے سی رول 201کے تحت تمام اداروں کا مالی احتساب کرنے کا اختیار ہے۔

نور عالم خان نے کہا کہ سابق نیب چیئرمین کے خلاف ایک خاتون نے مجھے پبلک پٹیشن بھیجی، حکام نے وہ ویڈیو اور آڈیو کلپ دیکھنے کے بعد حکومت سے درخواست کی جس پر ہم نے ایکشن لیا، پی اے سی نے رولز کے تحت مجھے انصاف مانگنے والی خاتون کو بلانے کا اختیار دیا اور جب اس خاتون کو بلاکر سنا تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ آمنہ جنجوعہ نے ایک پشتون عورت کا واقعہ بتایا کہ جاوید اقبال جسے میں جسٹس اور صاحب نہیں کہوں گا، انھوں نے لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کے طور پر پشتون خاتون کو کہا کہ آپ اتنی خوبصورت ہیں آپ کو شوہر کی کیا ضرورت ہے۔ جاوید اقبال مجرم ہیں، میں نے انہیں بلایا تو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے اور وہاں موقف اختیار کیا کہ ہم ان سے اثاثوں کی تفصیلات نہیں مانگ سکتے۔ نور عالم خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم کے لیے اربوں روپے اکٹھے کیے ان کا حساب پوچھا ہے، لیکن سپریم کورٹ نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہمند و دیامر بھاشا ڈیم سے متعلق تمام حسابات دینے سے نیشنل بینک کو روک دیا ہے جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو پی اے سی کے احکامات کے باوجود انہیں ڈیمز کے لیے جمع فنڈز کی دستاویزات نہیں دی گئیں۔ شاید عدالت نے 1973 کے آئین کا آرٹیکل 66 نہیں پڑھا۔انہوں نے کہا کہ کیا میرا یہ گناہ ہے کہ ایک افسر اگر اپنے اثاثہ جات دے سکتا ہے تو نیب کے افسران کیوں نہیں دے سکتے، نیب کے افسران اگر پہلے فوج میں تھے تو اس دورانیے کے اثاثے نہیں دیں لیکن نیب افسران جب سے سول افسران بنے ہیں تو اس کے بعد تو اپنے اثاثے وزارت قانون یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں جمع کروائیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ نیب اپنے افسران کے اثاثے اپنے پاس ہی جمع کرکے رکھ لے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ مہمند ڈیم میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اس کی تحقیقات کرنا چاہتا ہوں، میں کسی صورت سمجھوتہ نہیں کروں گا، میں ماں، بہن اور بیٹیوں کے سرپر چادر ڈالوں گا، بے شک مجھے عدالت بلاکر نااہل قرار دے دیں لیکن میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

Source link
hassannisar.pk

اپنا تبصرہ بھیجیں