روسی صدر کا ایک اور اہم فیصلہ؛ یوکرین کے محاذ پر اضافی فوج طلب

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے محاذ پر اضافی فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روسی صدر کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی افواج یوکرین کی جوابی کارروائی کا سامنا کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں روس کے زیر قبضہ کچھ علاقے یوکرین نے دوبارہ حاصل کرلیے ہیں۔

ٹیلی ویژن خطاب میں ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ اضافی فوج کو طلب کرنے کا مقصد روس اور اس کے علاقوں کا دفاع کرنا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک روس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یوکرین میں امن کے خواہشمند نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ملک اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جنرل اسٹاف کی جانب سے اضافی فوج طلب کرنے کے فیصلے کی حمایت ضروری سمجھتا ہوں۔

روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا مقصد یوکرین کے مشرقی صنعتی مرکز ڈونباس کو آزاد کرنا تھا، اس خطے کے زیادہ تر لوگ اس علاقے کو واپس یوکرین کے حوالے نہیں دیکھنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک ’نیوکلیئر بلیک میلنگ‘ میں مصروف ہیں لیکن روس کے پاس جواب دینے کے لیے بہت سے ہتھیار موجود ہیں اور اس دعوے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یوکرین اور مغربی ممالک روسی افواج کے زیر انتظام یوکرین کے تمام حصوں پر قبضے کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔

روس اب ڈونیٹسک کے تقریباً 60 فیصد حصے پر قابض ہے اور کئی ماہ کی شدید لڑائی کے دوران سست پیش رفت کے بعد جولائی تک لوہانسک کے تقریباً مکمل حصے پر قبضہ کر چکا ہے۔

تاہم روسی افواج کی یہ کامیابیاں اس وقت خطرے میں نظر آئیں جب انہیں رواں ماہ پڑوسی صوبے خارکیف سے بھگا دیا گیا، اس کے نتیجے میں روسی افواج نے ڈونیٹسک اور لوہانسک کے لیے اپنی اہم سپلائی لائنوں کا کنٹرول کھو دیا۔

اس سے قبل ماسکو نے اپنے زیر قبضہ یوکرین کے چاروں علاقوں میں فوری طور پر ایک ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا تاکہ انہیں روس میں ضم کیا جاسکے۔

دریں اثنا روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا کہ صدر پیوٹن کے حکم کے تحت یوکرین کے محاذ پر روس کی فوجی مہم میں خدمات سرانجام دینے کے لیے 3 لاکھ اضافی فوجی اہلکاروں کو طلب کر لیا گیا ہے۔

یوکرین کے صدارتی مشیر میخائیل پوڈولیاک نے کہا کہ روس کا اضافی فوج طلب کرنا غیر متوقع اقدام نہیں جو انتہائی غیر مقبول ثابت ہوگا، یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ جنگ روس کے منصوبے کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی۔

انہوں نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بھیجے گئے ایک ٹیکسٹ پیغام میں کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بلاعذر جنگ شروع کرنے اور روس کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کا الزام مغرب پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ’روس کا یہ فیصلہ توقع کے عین مطابق ہے جو اپنی ناکامی کا جواز پیش کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ واضح طور پر روس کے منصوبے کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی اس لیے اضافی فوج طلب کرنے اور لوگوں کے حقوق غصب کرنے جیسے انتہائی غیر مقبول فیصلے پیوٹن کی ضرورت ہیں‘۔


install suchtv android app on google app store

Source link
www.suchtv.pk

اپنا تبصرہ بھیجیں