وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کا ذکر کن الفاظ میں کیا ؟ خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھا دیا، اور کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں مگر مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی امن کا راستہ ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا

کہ جنوبی ایشیا میں امن کا انحصار مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلہ کے حل پر ہے، کشمیریوں کے خلاف بھارتی بربریت نے اسے دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بنادیا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت مسلم اکثریت والے کشمیر کو ہندو اکثریت میں بدلنے کےلیے غیرقانونی تبدیلیاں کررہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائے دہی یقینی بنانے تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ ہم پڑوسی ہیں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم امن کے ساتھ رہیں یا لڑائی کرکے، لڑائی کوئی آپشن نہیں، صرف پر امن مذاکرات ہی حل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ طویل مدت کا امن چاہتے ہیں، جو صرف مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں بھارت کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے تیار ہوں تاکہ ہمارے مشترکہ وسائل عوام کی بہتری کےلیے استعمال ہوسکیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایسا افغانستان چاہتا ہے جو اپنے آپ کے ساتھ دنیا کےلیے بھی پرامن ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت افغان حکومت کے ساتھ کشیدگی سے افغان عوام کو نقصان پہنچے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کے مالی ذخائر کو جاری کرنا افغان معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر شکل اور صورت میں شرپسندی کی مذمت کرتا ہے، شرپسندوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

Source link
hassannisar.pk

اپنا تبصرہ بھیجیں